ثمر جمال ۔۔۔ جو کوئی وقعتِ تجدید سمجھتا ہی نہیں

جو کوئی وقعتِ تجدید سمجھتا ہی نہیں
میں اُسے قابلِ تقلید سمجھتا ہی نہیں

آج کے دور کا انسان بہت ضدی ہے
کُھل کے کرتے رہو تنقید، سمجھتا ہی نہیں

وہ ترے دل میں چُھپی بات کہاں سمجھے گا؟
جو ترے لفظوں کی تعقید سمجھتا ہی نہیں

کوئی بھی بات طوالت سے بُری لگتی ہے
میں کسی قسم کی تمہید سمجھتا ہی نہیں

تیرے ہونے کا گماں، دل کو جواں رکھتا ہے
تو کہ اِس بات کو بے دید! سمجھتا ہی نہیں

اُن کو تہوار مبارک جنہیں سب حاصل ہے
یار تو یار سوا عید سمجھتا ہی نہیں

جو ترا حکم ملا، فوری اُسے پورا کِیا
دل تری بات کی تردید سمجھتا ہی نہیں

Related posts

Leave a Comment